منگلورو ،5؍ اگست (ایس او نیوز) کووڈ پروٹوکول کے تحت متحدہ عرب امارات نے غیر ملکیوں پر لگی سفری پابندیوں میں رعایت کا اعلان کرتے ہوئے ہندوستان، پاکستان، نیپال، یوگانڈا اور نائجیریا سے آنے والے ان مسافروں کو 5 اگست سے ملک میں داخلے کی اجازت دی تھی جو ویکسین کے دونوں ڈوز لے چکے ہوں۔
اس رعایت کے ساتھ یہ شرط بھی لگی ہے کہ ویکیسن کے دونوں ڈوز متحدہ امارات میں لگائے گئے ہوں ۔ اس کے علاوہ سفر سے پہلے 48 گھنٹوں کے وقفہ کے اندر کیا گیا آر ٹی پی سی آر کووڈ ٹیسٹ رپورٹ ضروری ہے اور طیارے میں سوار ہونے سے قبل ایئر پورٹ پر ریپیڈ ٹیسٹ کروانا بھی لازمی ہے۔
لیکن منگلورو انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے سفر کی تیاری کرنے والوں کے لئے ایک بری خبر یہ سامنے آئی ہے کہ فی الحال اس ایئر پورٹ پر ریپیڈ ٹیسٹ کی سہولت دستیاب نہیں ہے ۔
معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ریپیڈ ٹیسٹ کے لئے ایک مشین پر فی گھنٹہ زیادہ سے زیادہ 4 ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں ۔ ایسے میں ایک پوری فلائٹ کے مسافروں کی جانچ کے لئے ایئر پورٹ پر 30 تا 40 مشینوں کی ضرورت ہے اور اس میں بھی 3 تا 4 گھنٹے لگیں گے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ہر مشین کی قیمت لاکھوں روپے ہوتی ہے ۔ اس لئے سمجھا جارہا ہے کہ اس قلیل مدتی ضرورت کے لئے اتنا بڑا سرمایہ لگانے میں ایئر پورٹ اتھاریٹی کچھ زیادہ دلچسپی نہیں دکھا رہی ہے ۔ اور اگر انہوں نے من بنا بھی لیا تو ان مشینوں کی تنصیب میں ایک ہفتہ سے دو ہفتہ تک کا وقت لگنے کا امکان ہے ۔
ایک اچھی بات یہ ہے کہ کیرالہ ، بنگلورو اور ممبئی میں پہلے سے ہی یہ مشینیں نصب کی گئی ہیں اس لئے کرناٹکا کے ساحلی علاقے سے جو لوگ یو اے ای کے لئے منگلورو ایئر پورٹ سے پرواز کرنا چاہتے تھے ان کے لئے اب کیرالہ، بنگلورو یا ممبئی ایئر پورٹ کا رخ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ۔
خیال رہے کہ یو اے ای سفر کے لئے ان تمام شرائط کے ساتھ ٹکٹ کی قیمت کے علاوہ ہر ٹیسٹ کے لئے 2500 تا 3000 روپے کا اضافی خرچ مسافروں کو برداشت کرنا پڑے گا ۔